جامع الترمذي حدیث نمبر: 1905
Jami at-Tirmidhi 1905
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
7: باب مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کی بددعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ"، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنُ، وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے : مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حجاج صواف نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے ، ابو جعفر جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے انہیں ابو جعفر مؤذن کہا جاتا ہے ، ہم ان کا نام نہیں جانتے ہیں ، ¤ ۲- ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1905]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3862)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 36 (1536)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 11 (3862)، ویأتي عند المؤلف في الدعوات 48 (3448) (تحفة الأشراف: 11873)، و مسند احمد (2/258، 478، 523) (حسن)