جامع الترمذي حدیث نمبر: 1891
Jami at-Tirmidhi 1891
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ فَخَنَثَهَا ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ عِيسَى أَمْ لَا.
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے ، اسے جھکایا ، پھر اس کے منہ سے پانی پیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ¤ ۲- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے ، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1891]
قال الشيخ الألباني:
منكر، ضعيف أبي داود // 797 / 3721 //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1891) إسناده ضعيف / د 3721
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأشربة 15 (3721)، (تحفة الأشراف: 5149) (منکر) (سند میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، اور یہ حدیث پچھلی صحیح حدیث کے برخلاف ہے)