📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل (كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: مشکیزوں سے منہ لگا کر پینا منع ہے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1890 Jami at-Tirmidhi 1890
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ،
باب: مشکیزوں سے منہ لگا کر پینا منع ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً أَنَّهُ " نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر ، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1890]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں: (۱) مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتا ہے، (۲) اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو، (۳) مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا، اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جا سکتا ہے کہ جس میں اچھو آنے کا خطرہ ہوتا ہے جو نقصان دہ ہو سکتا ہے، (۴) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے، (۵) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے، (۶) عذر کی صورت میں جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3418)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 23 (5624)، صحیح مسلم/الأشربة (2023)، سنن ابی داود/ الأشربة 15 (3720)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 19 (3418)، (تحفة الأشراف: 4138)، و مسند احمد (3/6، 67، 69، 93) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1890
1888 1889 1890 1891 1892
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ