جامع الترمذي حدیث نمبر: 1878
Jami at-Tirmidhi 1878
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
10: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا ، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا ، اور کہا : میں اس سے منع کر چکا تھا ، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ۱؎ ، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا : ” یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام سلمہ ، براء ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1878]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کر دیا تھا، لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3414)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، والأشربة 27 (5632)، و 28 (5633)، واللباس 25 (5831)، و 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن ابی داود/ الأشربة 17 (3723)، سنن النسائی/الزینة 33 (5303)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3373)، و مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408) (صحیح)