جامع الترمذي حدیث نمبر: 1876
Jami at-Tirmidhi 1876
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
9: باب مَا جَاءَ فِي خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
باب: گدر (ادھ پکی) کھجور اور خشک کھجور ملا کر نبیذ بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «گدر» ( ادھ پکی ) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1876]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ «خلیط» ہونے (دونوں کے مل جانے) سے اس میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے، باوجود یہ کہ اس کا رنگ نہیں بدلتا ہے، اس لیے پینے والا یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ابھی یہ نشہ آور نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3395)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة (5601)، صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، سنن ابی داود/ الأشربة 8 (3703)، سنن النسائی/الأشربة 8 (5562)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3395)، (تحفة الأشراف: 2478)، و مسند احمد (3/294، 300، 302، 317، 363، 369) (صحیح)