جامع الترمذي حدیث نمبر: 1867
Jami at-Tirmidhi 1867
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
4: باب مَا جَاءَ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ
باب: مٹکے کی نبیذ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ " فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَسُوَيْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس آیا اور پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۱؎ ، طاؤس کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی ، ابو سعید خدری ، سوید ، عائشہ ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1867]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہو جائے، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور، کشمش، انگور، شہد، گیہوں اور جو وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 6 (1997/50)، سنن النسائی/الأشربة 28 (5617)، (تحفة الأشراف: 7098)، و مسند احمد (2/29، 35، 47، 56، 101، 155) (صحیح)