جامع الترمذي حدیث نمبر: 1866
Jami at-Tirmidhi 1866
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ أَحَدُهُمَا فِي حَدِيثِهِ الْحَسْوَةُ مِنْهُ حَرَامٌ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ رِوَايَةِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، جس چیز کا ایک فرق ( سولہ رطل ) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ۱؎ ، ان میں ( یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی ) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا : یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1866]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں «فرق» (سولہ رطل) اور مٹھی بھر کا مفہوم بھی کثیر و قلیل ہی ہے، یعنی جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2376)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأشربة 5 (3687)، (تحفة الأشراف: 17565)، و مسند احمد (6/72) (صحیح)