جامع الترمذي حدیث نمبر: 1711
Jami at-Tirmidhi 1711
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
31: باب مَا جَاءَ فِي حَدِّ بُلُوغِ الرَّجُلِ وَمَتَى يُفْرَضُ لَهُ
باب: حد بلوغت کا ذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الذُّرِّيَّةِ وَالْمُقَاتِلَةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ كَتَبَ " أَنْ يُفْرَضَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
اس سند سے عمر سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا : یہ چھوٹے اور لڑنے والے کے درمیان حد ہے ، انہوں نے یہ نہیں بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے مال غنیمت میں سے حصہ متعین کرنے کا فرمان جاری کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اسحاق بن یوسف کی حدیث جو سفیان ثوری کی روایت سے آئی ہے ، وہ حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1711M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2543)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 7903) (صحیح)