جامع الترمذي حدیث نمبر: 171
Jami at-Tirmidhi 171
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِي الْوَقْتِ الأَوَّلِ مِنَ الْفَضْلِ
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” علی ! تین چیزوں میں دیر نہ کرو : نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے ، جنازہ کو جب آ جائے ، اور بیوہ عورت ( کے نکاح کو ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو ( ہمسر ) مل جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 171]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (605)، // ضعيف الجامع الصغير - بترتيبى - برقم (2563) ويأتى برقم (182 / 1087) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجنائز 18 (1486)، (تحفة الأشراف: 10251)، وانظرحم (1/105)، (ویأتی عند المؤلف فی الجنائز برقم: 1075) (ضعیف) (سند میں سعید بن عبد اللہ جہنی لین الحدیث ہیں، اور ان کی عمر بن علی سے ملاقات نہیں ہے، جیسا کہ مؤلف نے خود کتاب الجنائز میں تصریح کی ہے، مگر حدیث کا معنی صحیح ہے)