جامع الترمذي حدیث نمبر: 1648
Jami at-Tirmidhi 1648
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
17: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عباس ، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1648]
💡 وضاحت:
۱؎: کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیا گیا، کیونکہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اتر نے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کر لیتا ہے، گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہو گئی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔ اور دوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدار ومسافت بتلا کر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2756)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، و 73 (2892)، وبدء الخلق 8 (325)، والرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، سنن النسائی/الجہاد 11 (3120)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 2 (2756)، والزہد 39 (4330)، (تحفة الأشراف: 4734)، و مسند احمد (3/433)، و (5/330، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)