جامع الترمذي حدیث نمبر: 1646
Jami at-Tirmidhi 1646
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : ایک آدمی اظہار شجاعت ( بہادری ) کے لیے لڑتا ہے ، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے ، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے ، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے ، وہ اللہ کے راستے میں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1646]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2783)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 45 (123)، والجہاد 15 (2810)، والخمس 10 (3126)، والتوحید 28 (4728)، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904)، سنن ابی داود/ الجہاد 26 (2517)، سنن النسائی/الجہاد 31 (3138)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 13 (2783)، (تحفة الأشراف: 8999)، و مسند احمد (4/392، 397، 402، 405، 417) (صحیح)