جامع الترمذي حدیث نمبر: 1634
Jami at-Tirmidhi 1634
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
9: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، هَكَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، وَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ فِي الْإِسْنَادِ رَجُلًا، وَيُقَالُ: كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ، وَيُقَالُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ، وَالْمَعْرُوفُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ.
سالم بن ابی جعد سے روایت ہے ، شرحبیل بن سمط نے کہا : کعب بن مرہ رضی الله عنہ ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجئے اور کمی زیادتی سے محتاط رہئیے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو اسلام میں بوڑھا ہو جائے ، تو قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور بن کر آئے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- کعب بن مرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اعمش نے اسی طرح عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے ، یہ حدیث منصور سے بھی آئی ہے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ہے ، انہوں نے سالم اور کعب بن مرہ کے درمیان سند میں ایک آدمی کو داخل کیا ہے ، ¤ ۳- کعب بن مرہ کو کبھی کعب بن بن مرہ اور مرہ بن کعب بہزی بھی کہا گیا ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1634]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1244)، المشكاة (4459 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1634) إسناده ضعيف / ن 3146 ¤ السند منقطع، سالم بن أبى الجعد لم يسمع من شرجيل بن السمط (سنن أبى داود: 3967 طرفه الآخر) ولبعض الحديث شواھد وحديث مسلم (1509) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الجہاد 26 (3146)، (تحفة الأشراف: 11164)، و مسند احمد (4/235-236) (صحیح)