جامع الترمذي حدیث نمبر: 1622
Jami at-Tirmidhi 1622
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
3: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أنهما حدثاه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، زَحْزَحَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "، أَحَدُهُمَا يَقُولُ: " سَبْعِينَ "، وَالْآخَرُ يَقُولُ: " أَرْبَعِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا “ ۱؎ ۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ” ستر برس “ کہا ہے اور دوسرے نے ” چالیس برس “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوسعید ، انس ، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1622]
💡 وضاحت:
۱؎: جہاد کرتے وقت روزہ رکھنے کی فضیلت کے حامل وہ مجاہدین ہیں جنہیں روزہ رکھ کر کمزوری کا احساس نہ ہو، اور جنہیں کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو وہ اس فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح باللفظ الأول، التعليق الرغيب (2 / 62)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصیام 44 (2246، 2248)، سنن ابن ماجہ/الصیام 34 (1718)، (تحفة الأشراف: 13486)، و مسند احمد (2/300، 357) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ”ابن لہیعہ“ ضعیف ہیں)