📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طہارت کے احکام و مسائل (كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان​۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 16 Jami at-Tirmidhi 16
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
12: بَابُ الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ
باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان​۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قِيلَ لِسَلْمَانَ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، فَقَالَ سَلْمَانُ: " أَجَلْ , نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ , وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , وَجَابِرٍ , وَخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ: رَأَوْا أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ , وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاقُ.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی ، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا : ہاں ، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے ، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے ، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے ، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں عائشہ ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے ، ¤ ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو ، یہی قول ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 16]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (316)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 17 (262) سنن ابی داود/ الطہارة 4 (7) سنن النسائی/الطہارة 37 (41) سنن ابن ماجہ/الطہارة 16 (316) (تحفة الأشراف: 4505) مسند احمد (5/437، 438، 439) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #16
14 15 16 17 18
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ