جامع الترمذي حدیث نمبر: 15
Jami at-Tirmidhi 15
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
11: بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ الاِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی کراہت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ". وَفِي هَذَا الْبَاب: عَنْ عَائِشَةَ , وَسَلْمَانَ , وَأبِي هُرَيْرَةَ , وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ: الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ: كَرِهُوا الِاسْتِنْجَاءَ بِالْيَمِينِ.
ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے ۱؎ ۔ اس باب میں عائشہ ، سلمان ، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 15]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بائیاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ دائیں ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (310)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 18 (153) و19 (154) والأشربة 25 (5630) صحیح مسلم/الطہارة 18 (367) سنن ابی داود/ الطہارة 18 (31) سنن النسائی/الطہارة 23 (24، 25) سنن ابن ماجہ/الطہارة 15 (310) (تحفة الأشراف: 12105) مسند احمد (5/296، 300، 310) سنن الدارمی/ الطہارة 13 (700) (صحیح)