جامع الترمذي حدیث نمبر: 1522
Jami at-Tirmidhi 1522
کتاب #20: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
23: باب مِنَ الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُذْبَحَ عَنِ الْغُلَامِ الْعَقِيقَةُ يَوْمَ السَّابِعِ , فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ يَوْمَ السَّابِعِ , فَيَوْمَ الرَّابِعَ عَشَرَ , فَإِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ عُقَّ عَنْهُ يَوْمَ حَادٍ وَعِشْرِينَ , وَقَالُوا: لَا يُجْزِئُ فِي الْعَقِيقَةِ مِنَ الشَّاةِ , إِلَّا مَا يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَّةِ.
اس سند سے بھی سمرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ بچے کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب سمجھتے ہیں ، اگر ساتویں دن نہ کر سکے تو چودہویں دن ، اگر پھر بھی نہ کر سکے تو اکیسویں دن عقیقہ کیا جائے ، یہ لوگ کہتے ہیں : اسی بکری کا عقیقہ درست ہو گا جس کی قربانی درست ہو گی ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1522M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3165)
تخریج دارالدعوہ:
*تخريج: انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 4574) (صحیح)