جامع الترمذي حدیث نمبر: 1493
Jami at-Tirmidhi 1493
کتاب #20: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأُضْحِيَةِ
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ , وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فِي الْأُضْحِيَّةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " , وَيُرْوَى بِقُرُونِهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے ، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہشام بن عروہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- راوی ابومثنی کا نام سلیمان بن یزید ہے ، ان سے ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے ، ¤ ۴- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی “ ، ¤ ۵- یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1493]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3126) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (671)، المشكاة (1470)، ضعيف الجامع الصغير (5112) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1493) إسناده ضعيف / جه 3126 ¤ أبو لمثني سليمان بن يزيد الخزاعي: ضعيف (تق: 8340) وحديث ”لصاحبھا بكل شعرة حسنة“ فى ضعيف سنن ابن ماجه (3127)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأضاحي 3 (3126)، (تحفة الأشراف: 17343) (ضعیف جداً) (سند میں ”ابو المثنی سلیمان بن یزید“ سخت ضعیف ہے)