جامع الترمذي حدیث نمبر: 1491
Jami at-Tirmidhi 1491
کتاب #19: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي الذَّكَاةِ بِالْقَصَبِ وَغَيْرِهِ
باب: بانس وغیرہ سے ذبح کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا , وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ , مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا , أَوْ ظُفُرًا , وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ , وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ , عَنْ أَبِيهِ , وَهَذَا أَصَحُّ , وَعَبَايَةُ , قَدْ سَمِعَ مِنْ رَافِعٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يَرَوْنَ أَنْ يُذَكَّى بِسِنٍّ , وَلَا بِعَظْمٍ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس ( جانور ذبح کرنے کے لیے ) چھری نہیں ہے ( تو کیا حکم ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو خون بہا دے ۱؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے ، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ۲؎ تفسیر بیان کرتا ہوں : دانت ، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۳؎ ۔ محمد بن بشار کی سند سے یہ بیان کیا ، سفیان ثوری کہتے ہیں عبایہ بن رفاعہ سے ، اور عبایہ نے رافع بن خدیج سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ، اس میں «عباية عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے ، عبایہ نے رافع سے سنا ہے ، اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ دانت اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1491]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں تلوار، چھری، تیز پتھر، لکڑی، شیشہ، سرکنڈا، بانس اور تانبے یا لوہے کی بنی ہوئی چیزیں شامل ہیں۔
۲؎: اس جملہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ کے رسول کا قول ہے یا راوی حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کا ہے۔
۳؎: ناخن کے ساتھ ذبح کرنے میں کفار کے ساتھ مشابہت ہے، نیز یہ ذبح کی صفت میں نہیں آتا، دانت و ناخن خواہ انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا الگ اور جدا ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہو، ان سے ذبح کرنا جائز نہیں۔
۲؎: اس جملہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ کے رسول کا قول ہے یا راوی حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کا ہے۔
۳؎: ناخن کے ساتھ ذبح کرنے میں کفار کے ساتھ مشابہت ہے، نیز یہ ذبح کی صفت میں نہیں آتا، دانت و ناخن خواہ انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا الگ اور جدا ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہو، ان سے ذبح کرنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3187)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، و 16 (2507)، والجہاد 191 (3075)، والذبائح 15 (5498)، و23 (5509)، و 36 (5543)، و 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن ابی داود/ الضحایا 15 (2821)، سنن النسائی/الصید 17 (4302)، والضحایا 20 (4408)، و 26 (4421)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 9 (3183) (تحفة الأشراف: 3561)، و مسند احمد (3/463، 464)، و (4/140، 142) ویأتي برقم 1600 (صحیح)