جامع الترمذي حدیث نمبر: 1416
Jami at-Tirmidhi 1416
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
20: باب مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ
باب: قصاص کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَال: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَنَزَعَ يَدَهُ , فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ , فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ , كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ , لَا دِيَةَ لَكَ " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45. قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا ، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے ، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے ، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں ، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی : «والجروح قصاص» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲ - اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1416]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ (المائدہ: ۴۵)، لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیا جائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدیات 18 (6892)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 4 (1673)، سنن النسائی/القسامة 18 (4762-4766)، سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2657)، (تحفة الأشراف: 10823)، و مسند احمد (4/427، 430، 435) (صحیح)