جامع الترمذي حدیث نمبر: 1414
Jami at-Tirmidhi 1414
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ عَبْدَهُ
باب: اپنے غلام کو قتل کر دینے والے شخص کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ , وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ , مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِلَى هَذَا , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ , وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قِصَاصٌ فِي النَّفْسِ , وَلَا فِيمَا دُونَ النَّفْسِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا قَتَلَ عَبْدَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ , وَإِذَا قَتَلَ عَبْدَ غَيْرِهِ قُتِلَ بِهِ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کر دیں گے اور جو اپنے غلام کا کان ، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان ، ناک کاٹیں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے ، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں : آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے ، ( نہ قتل کرنے میں ، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے ) میں ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا ، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1414]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2663)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الدیات 7 (4515)، سنن النسائی/القسامة 10 (4751)، و 11 (4752)، و 17 (4767)، و17 (4768)، سنن ابن ماجہ/الدیات 23 (2663)، (تحفة الأشراف: 4586)، و مسند احمد (5/10، 11، 12، 18) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حدیث عقیقہ کے سوا دیگر احادیث کے حسن کے سمرہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے)