📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل (كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو اس کی دیت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1394 Jami at-Tirmidhi 1394
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
6: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ رُضِخَ رَأْسُهُ بِصَخْرَةٍ
باب: جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو اس کی دیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ , فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِحَجَرٍ , وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ , قَالَ: فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ , فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَكِ , أَفُلَانٌ؟ " قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا , قَالَ: " فَفُلَانٌ , حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ " , فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا: أَيْ نَعَمْ , قَالَ: فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ , فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی زیور پہنے ہوئے کہیں جانے کے لیے نکلی ، ایک یہودی نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل دیا اور اس کے پاس جو زیور تھے وہ اس سے چھین لیا ، پھر وہ لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس میں کچھ جان باقی تھی ، چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے اس سے پوچھا : ” تمہیں کس نے مارا ہے ، فلاں نے ؟ “ اس نے سر سے اشارہ کیا : نہیں ، آپ نے پوچھا : ” فلاں نے ؟ “ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا ( جس نے اس کا سر کچلا تھا ) تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں ! تو یہودی پکڑا گیا ، اور اس نے اعتراف جرم کر لیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، بعض اہل علم کہتے ہیں : قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1394]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اہل کوفہ کا مذہب ہے جن میں امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب شامل ہیں ان کی دلیل نعمان بن بشیر کی روایت ہے جو ابن ماجہ میں «لا قود إلا بالسيف» کے الفاظ کے ساتھ وارد ہے، لیکن یہ روایت اپنے تمام طرق کے ساتھ ضعیف ہے بلکہ بقول ابوحاتم: منکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2665 - 2666)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، والطلاق 24 (تعلیقاً) والدیات 4 (6876)، و 5 (6877)، و 12 (6884)، صحیح مسلم/القسامة 3 (1672)، سنن ابی داود/ الدیات 10 (4527)، سنن النسائی/المحاربة 9 (4055)، والقسامة 13 (4745)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، و مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1394
1392 1393 1394 1395 1396
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ