جامع الترمذي حدیث نمبر: 1393
Jami at-Tirmidhi 1393
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
5: باب مَا جَاءَ فِي الْعَفْوِ
باب: دیت معاف کر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق , حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، قَالَ: دَقَّ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي , قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ , وَأَلَحَّ الْآخَرُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَبْرَمَهُ , فَلَمْ يُرْضِهِ , فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ , وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَهُ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ , فَيَتَصَدَّقُ بِهِ , إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً " , قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , وَوَعَاهُ قَلْبِي , قَالَ: فَإِنِّي أَذَرُهَا لَهُ , قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ لَا أُخَيِّبُكَ , فَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي السَّفَرِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ , وَيُقَالُ: ابْنُ يُحْمِدَ الثَّوْرِيُّ.
ابوسفر سعید بن احمد کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا ، انصاری نے معاویہ رضی الله عنہ سے فریاد کی ، اور ان سے کہا : امیر المؤمنین ! اس ( قریشی ) نے میرا دانت توڑ دیا ہے ، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا : ہم تمہیں ضرور راضی کریں گے ، دوسرے ( یعنی قریشی ) نے معاویہ رضی الله عنہ سے بڑا اصرار کیا اور ( یہاں تک منت سماجت کی کہ ) انہیں تنگ کر دیا ، معاویہ اس سے مطمئن نہ ہوئے ، چنانچہ معاویہ نے اس سے کہا : تمہارا معاملہ تمہارے ساتھی کے ہاتھ میں ہے ، ابو الدرداء رضی الله عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ابو الدرداء رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے ، میرے کانوں نے اسے سنا ہے اور دل نے اسے محفوظ رکھا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” جس آدمی کے بھی جسم میں زخم لگے اور وہ اسے صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ بلندی عطا کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے ، انصاری نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے سنا ہے ؟ ابو الدرداء نے کہا : میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے ، اس نے کہا : تو میں اس کی دیت معاف کر دیتا ہوں ، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا : لیکن میں تمہیں محروم نہیں کروں گا ، چنانچہ انہوں نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہمیں یہ صرف اسی سند سے معلوم ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ ابوسفر نے ابو الدرداء سے سنا ہے ، ¤ ۲- ابوسفر کا نام سعید بن احمد ہے ، انہیں ابن یحمد ثوری بھی کہا جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1393]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2693) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (586)، ضعيف الجامع الصغير (5175) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1393) إسناده ضعيف / جه 2693 ¤ أبوالسفر ثقه، لكنه أرسل عن أبى الدرداء،كما فى تھذيب التھذيب (96/4)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 35 (2693)، (تحفة الأشراف: 10971)، و مسند احمد (6/448) (ضعیف) (ابوالسفر کا سماع ابو الدرداء رضی الله عنہ سے نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع ہے)