جامع الترمذي حدیث نمبر: 1384
Jami at-Tirmidhi 1384
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
42: باب مِنَ الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِنَا أَرْضٌ , أَنْ يُعْطِيَهَا بِبَعْضِ خَرَاجِهَا , أَوْ بِدَرَاهِمَ , وَقَالَ: " إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِكُمْ أَرْضٌ , فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ , أَوْ لِيَزْرَعْهَا ".
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا ، وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہوتی تو وہ اس کو ( زراعت کے لیے ) کچھ پیداوار یا روپیوں کے عوض دے دیتا ۔ آپ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنے بھائی کو ( مفت ) دیدے ۔ یا خود زراعت کرے ۱؎ “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1384]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث اور اس کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح - لكن ذكر الدراهم شاذ -، الإرواء (5 / 298 - 300)، غاية المرام (355)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المزارعة 2 (3899)، (تحفة الأشراف: 3578)، (وانظر أیضا: أحادیث النسائي من الأرقام: 3893- إلی -3903) (صحیح)