جامع الترمذي حدیث نمبر: 1382
Jami at-Tirmidhi 1382
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
40: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْغَرْسِ
باب: درخت لگانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا , أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا , فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ , أَوْ طَيْرٌ , أَوْ بَهِيمَةٌ , إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , وَجَابِرٍ , وَأُمِّ مُبَشِّرٍ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند یا چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوایوب ، جابر ، ام مبشر اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1382]
قال الشيخ الألباني:
**، الصحيحة (7)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث المزارعة 1 (2320)، والأدب 27 (6012)، صحیح مسلم/المساقاة 2 (البیوع 23) (1553)، (تحفة الأشراف: 1431)، و مسند احمد (3/147، 192، 229، 243) (صحیح)