جامع الترمذي حدیث نمبر: 1349
Jami at-Tirmidhi 1349
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
15: باب مَا جَاءَ فِي الْعُمْرَى
باب: عمریٰ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا , أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَائِشَةَ , وَابْنِ الزُّبَيْرِ , وَمُعَاوِيَةَ.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ ۱؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے “ ، یا فرمایا : ” عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں زید بن ثابت ، جابر ، ابوہریرہ ، عائشہ ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1349]
💡 وضاحت:
۱؎: کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمریٰ کہتے ہیں، مثلاً یوں کہے کہ میں نے تمہیں یہ گھر تمہاری عمر بھر کے لیے دے دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 87 (3549)، (تحفة الأشراف: 4593) (صحیح)