جامع الترمذي حدیث نمبر: 1347
Jami at-Tirmidhi 1347
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
14: باب مَا جَاءَ فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ
باب: دو آدمیوں کے درمیان مشترک غلام کا بیان جس میں سے ایک اپنے حصہ کو آزاد کر دے۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ , فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ , فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو ( تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا ) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1347]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2528)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 6935) (صحیح)