جامع الترمذي حدیث نمبر: 132
Jami at-Tirmidhi 132
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
99: بَابُ مَا جَاءَ فِي مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مِنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 132]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (260)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 5 (300)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن ابی داود/ الطہارة 107 (267)، سنن النسائی/الطہارة 180 (286)، والحیض 12 (373)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 121 (636)، (تحفة الأشراف: 15982) (صحیح)