جامع الترمذي حدیث نمبر: 130
Jami at-Tirmidhi 130
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
97: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ أَنَّهَا لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ
باب: حائضہ کے نماز قضاء نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا أَيَّامَ مَحِيضِهَا؟ فَقَالَتْ: " أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، أَنَّ الْحَائِضَ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ.
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ۱؎ ہے ؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی ، ¤ ۳- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے ۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 130]
💡 وضاحت:
۱؎: حروریہ منسوب ہے حروراء کی طرف جو کوفہ سے دو میل کی دوری پر ایک بستی کا نام تھا، خوارج کو اسی گاؤں کی نسبت سے حروری کہا جاتا ہے، اس لیے کہ ان کا ظہور اسی بستی سے ہوا تھا، ان میں کا ایک گروہ حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء کو ضروری قرار دیتا ہے اسی لیے عائشہ رضی الله عنہا نے اس عورت کو حروریہ کہا، مطلب یہ تھا کہ کیا تو خارجی عورت تو نہیں ہے جو ایسا کہہ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (631)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 20 (321)، صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/ الطہارة 105 (262)، سنن النسائی/الحیض 17 (382)، والصوم 36 (2320)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 119 (631)، (تحفة الأشراف: 17964)، مسند احمد (6/32، 97، 120، 185، 231)، سنن الدارمی/الطہارة 102 (1020) (صحیح)