جامع الترمذي حدیث نمبر: 1267
Jami at-Tirmidhi 1267
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
40: باب مَا جَاءَ فِي الاِحْتِكَارِ
باب: ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ "، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ: وَمَعْمَرٌ، قَدْ كَانَ يَحْتَكِرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ وَالْحِنْطَةَ وَنَحْوَ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا احْتِكَارَ الطَّعَامِ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي الِاحْتِكَارِ فِي غَيْرِ الطَّعَامِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَا بَأْسَ بِالِاحْتِكَارِ فِي الْقُطْنِ، وَالسِّخْتِيَانِ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” گنہگار ہی احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرتا ہے “ ۱؎ ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں : میں نے سعید بن المسیب سے کہا : ابو محمد ! آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- معمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- سعید بن مسیب سے مروی ہے ، وہ تیل ، گیہوں اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے ، ¤ ۳- اس باب میں عمر ، علی ، ابوامامہ ، اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ان لوگوں نے کھانے کی ذخیرہ اندوزی ناجائز کہا ہے ، ¤ ۵- بعض اہل علم نے کھانے کے علاوہ دیگر اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے ، ¤ ۶- ابن مبارک کہتے ہیں : روئی ، دباغت دی ہوئی بکری کی کھال ، اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1267]
💡 وضاحت:
۱؎: «احتکار» : ذخیرہ اندوزی کو کہتے ہیں، یہ اس وقت منع ہے جب لوگوں کو غلے کی ضرورت ہو تو مزید مہنگائی کے انتظار میں اسے بازار میں نہ لایا جائے، اگر بازار میں غلہ دستیاب ہے تو ذخیرہ اندوزی منع نہیں۔ کھانے کے سوا دیگر غیر ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2154)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 26 (البیوع 47)، (1605)، سنن ابی داود/ البیوع 49 (3447)، سنن ابن ماجہ/التجارات 6 (2154)، (تحفة الأشراف: 11481)، و مسند احمد (6/400) وسنن الدارمی/البیوع 12 (2585) (صحیح)