جامع الترمذي حدیث نمبر: 1265
Jami at-Tirmidhi 1265
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
39: باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ
باب: عاریت لی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخُطْبَةِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا : ” عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی ، ضامن کو تاوان دینا ہو گا اور قرض واجب الاداء ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی طریق سے مروی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں سمرہ ، صفوان بن امیہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1265]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2398)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصدقات 5 (2398)، (تحفة الأشراف: 4884) (صحیح)