جامع الترمذي حدیث نمبر: 1243
Jami at-Tirmidhi 1243
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
24: باب مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ
باب: صرف کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ، أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ يَقُولُ يَدًا بِيَدٍ.
مالک بن اوس بن حدثان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ( بازار میں ) یہ کہتے ہوئے آیا : درہموں کو ( دینار وغیرہ سے ) کون بدلے گا ؟ تو طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ نے کہا اور وہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس تھے : ہمیں اپنا سونا دکھاؤ ، اور جب ہمارا خادم آ جائے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم ( اس کے بدلے ) تمہیں چاندی دے دیں گے ۔ ( یہ سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” سونے کے بدلے چاندی لینا سود ہے ، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو ، دوسرے ہاتھ سے لو ۱؎ ، گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے ، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو ، دوسرے ہاتھ سے لو ، جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو ، دوسرے ہاتھ سے لو ، اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو ، دوسرے ہاتھ سے لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ «إلاھاء وھاء» کا مفہوم ہے نقدا نقد ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1243]
💡 وضاحت:
۱؎: چاندی کے بدلے سونا، اور سونا کے بدلے چاندی کم و بیش کر کے بیچنا جائز تو ہے، مگر نقدا نقد اس حدیث کا یہی مطلب ہے، نہ یہ کہ سونا کے بدلے چاندی کم و بیش کر کے نہیں بیچ سکتے، دیکھئیے حدیث (رقم ۱۲۴۰)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2253)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، و74 (2170)، و76 (2174)، صحیح مسلم/المساقاة (البیوع 37)، (1586)، سنن ابی داود/ البیوع 3348)، سنن النسائی/البیوع 17 (38)، (تحفة الأشراف: 10630)، مسند احمد (1/24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)