📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: صرف کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1242 Jami at-Tirmidhi 1242
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
24: باب مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ
باب: صرف کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، فَآخُذُ مَكَانَهَا الْوَرِقَ، وَأَبِيعُ بِالْوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ بِالْقِيمَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَقْتَضِيَ الذَّهَبَ مِنَ الْوَرِقِ وَالْوَرِقَ، مِنَ الذَّهَبِ وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بقیع کے بازار میں اونٹ بیچا کرتا تھا ، میں دیناروں سے بیچتا تھا ، اس کے بدلے چاندی لیتا تھا ، اور چاندی سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ حفصہ رضی الله عنہا کے گھر سے نکل رہے ہیں تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : ” قیمت کے ساتھ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اس حدیث کو صرف سماک بن حرب ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، ¤ ۲- سماک نے اسے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور داود بن ابی ھند نے یہ حدیث سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے موقوفاً روایت کی ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ اگر کوئی سونا کے بدلے چاندی لے یا چاندی کے بدلے سونا لے ، تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہی احمد اور اسحاق کا بھی قول ہے ، ¤ ۴- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ جانا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1242]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2262) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (494)، ضعيف أبي داود (727 / 3354)، الإرواء (1326) //
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ البیوع 14 (3354)، سنن النسائی/البیوع 50 (4586)، سنن ابن ماجہ/التجارات 51 (2262)، (تحفة الأشراف: 7053)، مسند احمد (2/33، 59، 99، 101، 139) (ضعیف) (اس کے راوی ”سماک“ اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے اور تلقین کو قبول کرتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر رضی الله عنہما پر موقوف کیا ہے)
جامع الترمذي • حدیث #1242
1240 1241 1242 1243 1244

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1241 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا شَيبَانُ، عَنْ يَ...
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیا...
#1243 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَ...
مالک بن اوس بن حدثان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ( بازار میں ) یہ کہتے ہوئے آیا : درہموں کو ( دینا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ