جامع الترمذي حدیث نمبر: 1234
Jami at-Tirmidhi 1234
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ، وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَأَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْفٌ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے ۱؎ ، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ۲؎ اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو ۳؎ اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- حکیم بن حزام کی حدیث حسن ہے ( ۱۲۳۲ ، ۱۲۳۳ ) ، یہ ان سے اور بھی سندوں سے مروی ہے ۔ اور ایوب سختیانی اور ابوبشر نے اسے یوسف بن ماہک سے اور یوسف نے حکیم بن حزام سے روایت کیا ہے ۔ اور عوف اور ہشام بن حسان نے اس حدیث کو ابن سیرین سے اور ابن سیرین نے حکیم بن حزام سے اور حکیم بن حزام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث ( روایت ) مرسل ( منقطع ) ہے ۔ اسے ( اصلاً ) ابن سیرین نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے یوسف بن ماہک سے اور یوسف بن ماہک نے حکیم بن حزام سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1234]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ، بائع کہے کہ میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ دس روپے میں فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ مجھے دس روپے قرض دے دو یا یوں کہے کہ میں تمہیں دس روپے قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم اپنا یہ سامان میرے ہاتھ سے بیچ دو۔
۲؎: اس کے متعلق ایک قول یہ ہے اس سے مراد ایک بیع میں دو فروختیں اور امام احمد کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ بیچنے والا کہے میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہو گی۔
۳؎: یعنی کسی سامان کا منافع حاصل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ اس کا مالک نہ ہو جائے اور اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔
۲؎: اس کے متعلق ایک قول یہ ہے اس سے مراد ایک بیع میں دو فروختیں اور امام احمد کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ بیچنے والا کہے میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہو گی۔
۳؎: یعنی کسی سامان کا منافع حاصل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ اس کا مالک نہ ہو جائے اور اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (2188)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 70 (3504)، سنن النسائی/البیوع 60 (4615)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2188)، (تحفة الأشراف: 8664)، مسند احمد (2/179) (حسن صحیح)