جامع الترمذي حدیث نمبر: 1232
Jami at-Tirmidhi 1232
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَأْتِينِي الرَّجُلُ، يَسْأَلُنِي مِنَ الْبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي أَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، ثُمَّ أَبِيعُهُ، قَالَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ". قال: وفَي البْابِ، عَنْ عَبْدِ اللهَ بْنِ عُمَرَ.
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کو بیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی ، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے- حکم ۱۲۳۴ میں آ رہا ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1232]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2187)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 70 (3503)، سنن النسائی/البیوع 60 (4617)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2187)، (تحفة الأشراف: 3436)، مسند احمد (3/402، 434) (صحیح)