جامع الترمذي حدیث نمبر: 1214
Jami at-Tirmidhi 1214
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
7: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشِّرَاءِ إِلَى أَجَلٍ
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَخَذَهُ لِأَهْلِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس صاع غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی ۔ آپ نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لیا تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1214]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2239)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 83 (4655)، (تحفة الأشراف: 6228)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624)، مسند احمد (1/236، 361)، وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الرہون 1 (2439)، مسند احمد (1/300) من غیر ہذا الوجہ (صحیح)