📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1213 Jami at-Tirmidhi 1213
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
7: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشِّرَاءِ إِلَى أَجَلٍ
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمَرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ، فَكَانَ إِذَا قَعَدَ فَعَرِقَ ثَقُلَا عَلَيْهِ، فَقَدِمَ بَزٌّ مِنْ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ، فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ، فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي، أَوْ بِدَرَاهِمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ، وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ فِرَاسٍ الْبَصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ، يَقُولُ: سُئِلَ شُعْبَةُ يَوْمًا، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَسْتُ أُحَدِّثُكُمْ حَتَّى تَقُومُوا إِلَى حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، فَتُقَبِّلُوا رَأَسَهُ، قَالَ: وَحَرَمِيٌّ فِي الْقَوْمِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: أَيْ إِعْجَابًا بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر دو موٹے قطری کپڑے تھے ، جب آپ بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے ، شام سے فلاں یہودی کے کپڑے آئے ۔ تو میں نے عرض کیا : کاش ! آپ اس کے پاس کسی کو بھیجتے اور اس سے دو کپڑے اس وعدے پر خرید لیتے کہ جب گنجائش ہو گی تو قیمت دے دیں گے ، آپ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا ، تو اس نے کہا : جو وہ چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے ، ان کا ارادہ ہے کہ میرا مال یا میرے دراہم ہڑپ کر لیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جھوٹا ہے ، اسے خوب معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابی حفصہ سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- ابوداؤد طیالسی کہتے ہیں : ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں تم سے اس وقت اسے نہیں بیان کر سکتا جب تک کہ تم کھڑے ہو کر حرمی بن عمارہ بن ابی حفصہ ( جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں ) کا سر نہیں چومتے اور حرمی ( وہاں ) لوگوں میں موجود تھے ، انہوں نے اس حدیث سے حد درجہ خوش ہوتے ہوئے یہ بات کہی ، ¤ ۴- اس باب میں ابن عباس ، انس اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1213]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ایک معینہ مدت تک کے لیے ادھار سودا کرنا درست ہے کیونکہ آپ نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح أحاديث البيوع
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/البیوع 70 (4632)، مسند احمد (6/147) (تحفة الأشراف: 1740) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1213
1211 1212 1213 1214 1215

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1214 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَ...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس...
#1215 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، ...
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی ج...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ