جامع الترمذي حدیث نمبر: 1189
Jami at-Tirmidhi 1189
کتاب #14: کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا نَعْرِفَهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی ، میں اس سے محبت کرتا تھا ، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے ۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں ، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی ۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” عبداللہ بن عمر ! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1189]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2088)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 129 (5138)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 36 (2088)، (تحفة الأشراف: 6701)، مسند احمد (2/42، 53) (حسن)