جامع الترمذي حدیث نمبر: 1142
Jami at-Tirmidhi 1142
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
43: باب مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمَا
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ، بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ، مَقَالٌ: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا، ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا، وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کر لے ، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو ۔ یہی مالک بن انس ، اوزاعی ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1142]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ابن عباس کی حدیث کے جو آگے آ رہی ہے مخالف ہے اس میں ہے کہ پہلے ہی نکاح پر آپ نے انہیں لوٹا دیا نیا نکاح نہیں پڑھایا اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2010) // ضعيف ابن ماجة برقم (436)، الإرواء (1992) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1142) إسناده ضعيف /جه 2010 ¤ حجاج بن أرطاة ضعيف (تقدم:527)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2010)، (تحفة الأشراف: 8672)، مسند احمد (2/207) (ضعیف) (اس کے راوی ”حجاج بن ارطاة“ ایک تو ضعیف ہیں، دوسرے سند میں ان کے اور ”عمروبن شعیب“ کے درمیان انقطاع ہے، اس کے بالمقابل اگلی حدیث صحیح ہے)