📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1140 Jami at-Tirmidhi 1140
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الضَّرَائِرِ
باب: سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْسِمُ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مُرْسَلًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْسِمُ"، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا أَمْلِكُ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ الْحُبَّ، وَالْمَوَدَّةَ كَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے : ” اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں ، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے ، میں نہیں رکھتا ، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بسند «حماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد الله بن يزيد عن عائشة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے جب کہ اسے حماد بن زید اور دوسرے کئی ثقات نے بسند «أيوب عن أبي قلابة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری تقسیم کرتے تھے اور یہ حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اور ” جس کی قدرت تو رکھتا ہے میں نہیں رکھتا “ سے مراد محبت و مؤدّۃ ہے ، اسی طرح بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1140]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1971)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ النکاح 39 (2134)، سنن النسائی/عشرة النساء 2 (3953)، سنن ابن ماجہ/النکاح 47 (1971)، (تحفة الأشراف: 1629)، سنن الدارمی/النکاح 25 (2253) (ضعیف) (حماد بن زید اور دیگر زیادہ ثقہ رواة نے اس کو ایوب سے ”عن أبي قلابة عن النبي ﷺ“ مرسلاً بیان کیا ہے، لیکن حدیث کا پہلا جزء اللهم هذا قسمي فيما أملك حسن ہے، تراجع الالبانی 346)
جامع الترمذي • حدیث #1140
1138 1139 1140 1141 1142

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1141 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّام...
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی شخص کے پاس دو ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ