جامع الترمذي حدیث نمبر: 1113
Jami at-Tirmidhi 1113
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی مہر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: " فَأَجَازَهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَهْرِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمَهْرُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: لَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ.
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتی مہر پر نکاح کر لیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تو اپنی جان و مال سے دو جوتی مہر پر راضی ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں راضی ہوں ۔ وہ کہتے ہیں : تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دے دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، ابوہریرہ ، سہل بن سعد ، ابو سعید خدری ، انس ، عائشہ ، جابر اور ابوحدرد اسلمی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا مہر کے سلسلے میں اختلاف ہے ۔ بعض اہل علم کہتے ہیں : مہر اس قدر ہو کہ جس پر میاں بیوی راضی ہوں ۔ یہ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ¤ ۴- مالک بن انس کہتے ہیں : مہر ایک چوتھائی دینار سے کم نہیں ہونا چاہیئے ، ¤ ۵- بعض اہل کوفہ کہتے ہیں : مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیئے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1113]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1888) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (413)، الإرواء (1926) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1113) إسناده ضعيف /جه 1888 ¤ عاصم بن عبيدالله: ضعيف (تقدم:345)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 17 (1888)، (تحفة الأشراف:؟؟)، مسند احمد (3/445) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں)