جامع الترمذي حدیث نمبر: 1111
Jami at-Tirmidhi 1111
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ نِكَاحَ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ لَا يَجُوزُ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَغَيْرِهِمَا بِلَا اخْتِلَافٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے ، وہ زانی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، اور یہ صحیح نہیں ہے ، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے ، ¤ ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں ۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1111]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1959)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1111، 1112) إسناده ضعيف / د 2078
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ النکاح 17 (2078)، (تحفة الأشراف: 2326)، مسند احمد (3/301، 377، 382)، سنن الدارمی/النکاح 40 (2279) (حسن)