جامع الترمذي حدیث نمبر: 1084
Jami at-Tirmidhi 1084
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فَزَوِّجُوهُ
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ ابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ خُولِفَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَشْبَهُ، وَلَمْ يَعُدَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْحَمِيدِ مَحْفُوظًا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے ، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو ۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی اس روایت میں عبدالحمید بن سلیمان کی مخالفت کی گئی ہے ، اسے لیث بن سعد نے بطریق : «ابن عجلان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کی ہے ( یعنی : ابن وشیمہ کا ذکر نہیں کیا ہے ) ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کا کہنا ہے کہ لیث کی حدیث اشبہ ( قریب تر ) ہے ، انہوں ( بخاری ) نے عبدالحمید کی حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا ، ¤ ۳- اس باب میں ابوحاتم مزنی اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1084]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الإرواء (1668)، الصحيحة (1022)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1084) إسناده ضعيف / جه 1967 ¤ ابن عجلان عنعن (د 128) وتلميذه عبد الحميد بن سليمان:ضعيف (تق:3764) وانظر الحديث الآتي:1085
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 46 (1967) (حسن صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلیمان میں کچھ کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے الإ رواء رقم: 1868، الصحیحة 1022)