📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1082 Jami at-Tirmidhi 1082
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وإسحاق بن إبراهيم البصري، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَزَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ فِي حَدِيثِهِ، وَقَرَأَ قَتَادَةُ: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً سورة الرعد آية 38. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَيُقَالُ: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ : «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ۲؎ ” ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں ، ہم نے انہیں بیویاں عطا کیں اور اولادیں “ پڑھی ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق : «الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں سعد ، انس بن مالک ، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1082]
💡 وضاحت:
۱؎: «تبتل» کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اور ازدواجی تعلق سے کنارہ کش رہنے کے ہیں۔
۲؎: الرعد: ۳۸۔
۳؎: آیت میں «ازواجاً» سے رہبانیت اور «ذریّۃ» سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کی تردید ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (1081)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/النکاح 4 (3216) سنن ابن ماجہ/النکاح 2 (1849) (تحفة الأشراف: 4590) مسند احمد (5/17) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1082
1080 1081 1082 1083 1084

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1083 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزّ...
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو بغیر شادی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ