جامع الترمذي حدیث نمبر: 1059
Jami at-Tirmidhi 1059
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
63: باب مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَمَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: أَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةٌ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ، قَالَ: " وَاثْنَانِ "، قَالَ: وَلَمْ نَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَاحِدِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ: ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ.
ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا ، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا چیز واجب ہو گئی ؟ تو انہوں نے کہا : میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” جس کسی بھی مسلمان کے ( نیک ہونے کی ) تین آدمی گواہی دیں ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۔ ہم نے عرض کیا : اگر دو آدمی گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” دو آدمی بھی “ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1059]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحكام (45)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368) والشہادات 6 (2643) سنن النسائی/الجنائز 50 (1936) (تحفة الأشراف: 10472) مسند احمد (1/22، 30، 46) (صحیح)