جامع الترمذي حدیث نمبر: 1058
Jami at-Tirmidhi 1058
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
63: باب مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ "، ثُمَّ قَالَ: " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر فرمایا : ” تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1058]
💡 وضاحت:
۱؎: حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا: یہ فلاں کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اور اللہ کی اطاعت کرتا تھا اور اس میں کوشاں رہتا تھا۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1491)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 812) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367) والشہادات 6 (2642) صحیح مسلم/الجنائز 20 (949) سنن النسائی/الجنائز50 (1934) سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491) مسند احمد (3/179، 186، 197، 245، 281) من غیر ہذا الوجہ۔