📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1054 Jami at-Tirmidhi 1054
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
60: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمِ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِزِيَارَةِ الْقُبُورِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ: ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو ، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابن مسعود ، انس ، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ قبروں کی زیارت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1054]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں قبروں کی زیارت کا استحباب ہی نہیں بلکہ اس کا حکم اور تاکید ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتداء اسلام میں اس کام سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس وقت یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے زمانہ جاہلیت کے اثر سے وہاں کوئی غلط کام نہ کر بیٹھیں پھر جب یہ خطرہ ختم ہو گیا اور مسلمان عقیدہ توحید میں پختہ ہو گئے تو اس کی نہ صرف اجازت دے دی گئی بلکہ اس کی تاکید کی گئی تاکہ موت کا تصور انسان کے دل و دماغ میں ہر وقت رچا بسا رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الأحكام (178 و 188)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (977) (بزیادة فی السیاق) (تحفة الأشراف: 1932) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الأضاحی5 (977) سنن ابی داود/ الأشربة7 (3698) سنن النسائی/الجنائز100 (2034) والأضاحی35 (4434، 4435) مسند احمد (5/350، 355، 356، 357) من غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #1054
1052 1053 1054 1055 1056

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1055 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ...
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر حبشہ میں وفات پا گئے تو انہیں مکہ لا کر دفن ک...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ