جامع الترمذي حدیث نمبر: 1052
Jami at-Tirmidhi 1052
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
58: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا
باب: قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ، وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا، وَأَنْ تُوطَأَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي تَطْيِينِ الْقُبُورِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ أَنْ يُطَيَّنَ الْقَبْرُ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱؎ ، ان پر لکھا جائے ۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اور انہیں روندا جائے ۴؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ اور بھی طرق سے جابر سے مروی ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم نے قبروں پر مٹی ڈالنے کی اجازت دی ہے ، انہیں میں سے حسن بصری بھی ہیں ، ¤ ۴- شافعی کہتے ہیں : قبروں پر مٹی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1052]
💡 وضاحت:
۱؎: اس ممانعت کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اس میں فضول خرچی ہے کیونکہ اس سے مردے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک تک پہنچا دیتی ہے۔
۲؎: یہ نہی مطلقاً ہے اس میں میت کا نام اس کی تاریخ وفات اور تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں اور اسماء حسنیٰ وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں۔
۳؎: مثلاً قبّہ وغیرہ۔
۴؎: یہ ممانعت میت کی توقیر و تکریم کی وجہ سے ہے اس سے میت کی تذلیل و توہین ہوتی ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا۔
۲؎: یہ نہی مطلقاً ہے اس میں میت کا نام اس کی تاریخ وفات اور تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں اور اسماء حسنیٰ وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں۔
۳؎: مثلاً قبّہ وغیرہ۔
۴؎: یہ ممانعت میت کی توقیر و تکریم کی وجہ سے ہے اس سے میت کی تذلیل و توہین ہوتی ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحكام (204)، تحذير الساجد (40)، الإرواء (757)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 32 (970) سنن ابی داود/ الجنائز 76 (3225) سنن النسائی/الجنائز 96 (2029) (تحفة الأشراف: 2796) مسند احمد (3/295) (صحیح)