جامع الترمذي حدیث نمبر: 1041
Jami at-Tirmidhi 1041
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
50: باب آخَرُ
باب: جنازے سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ.
عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا ۔ میں نے انہیں سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو ، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ¤ ۳- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے ۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1041]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (1670) // ضعيف الجامع الصغير (5513) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جداً ¤ أبوالمھزوم: متروك (د 1854)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14833) (ضعیف) (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہیں)