📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1033 Jami at-Tirmidhi 1033
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
44: باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: لَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ فِي الْمَسْجِدِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ فِي الْمَسْجِدِ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ¤ ۳- شافعی کا بیان ہے کہ مالک کہتے ہیں : میت پر نماز جنازہ مسجد میں نہیں پڑھی جائے گی ، ¤ ۴- شافعی کہتے ہیں : میت پر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے ، اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1033]
💡 وضاحت:
۱؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام: سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے باپ کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔
۲؎: اس سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا، یہی جمہور کا مذہب ہے جو لوگ عدام جواز کے قائل ہیں ان کی دلیل ابوہریرہ کی روایت «من صلى على جنازة في المسجد فلا شيء له» ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے، جمہور اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے قابل استدلال نہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ مشہور اور محقق نسخے میں «فلا شيء له» کی جگہ «فلا شيء عليه» ہے اس کے علاوہ اس کے اور بھی متعدد جوابات دیئے گئے ہیں دیکھئیے (تحفۃ الاحوذی ج۲ ص۱۴۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1518)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 34 (973)، سنن النسائی/الجنائز 70 (1969)، مسند احمد (6/79، 133، 169) (تحفة الأشراف: 16175) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الجنائز (المصدرالمذکور)، سنن ابی داود/ الجنائز 54 (3189)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 29 (1518)، موطا امام مالک/الجنائز 8 (22) من غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #1033
1031 1032 1033 1034 1035
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ