📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1023 Jami at-Tirmidhi 1023
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
37: باب مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا التَّكْبِيرَ عَلَى الْجَنَازَةِ خَمْسًا، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ خَمْسًا فَإِنَّهُ يُتَّبَعُ الْإِمَامُ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہتے تھے ۔ انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ہم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا بھی کہتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- زید بن ارقم کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ جنازے میں پانچ تکبیریں ہیں ، ¤ ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : جب امام جنازے میں پانچ تکبیریں کہے تو امام کی پیروی کی جائے ( یعنی مقتدی بھی پانچ کہیں ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1023]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں بھی جائز ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کرام سے پانچ، چھ، سات اور آٹھ تکبیریں بھی منقول ہیں، لیکن اکثر روایات میں چار تکبیروں ہی کا ذکر ہے، بیہقی وغیرہ میں ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے صحابہ کرام کے باہمی مشورے سے چار تکبیروں کا حکم صادر فرمایا، بعض نے اسے اجماع قرار دیا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، علی رضی الله عنہ وغیرہ سے چار سے زائد تکبیریں بھی ثابت ہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کی تکبیرات میں میت کے لیے دعا ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1505)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 23 (957)، سنن ابی داود/ الجنائز 58 (3197)، سنن النسائی/الجنائز 76 (1984)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 25 (1505)، (تحفة الأشراف: 3671)، مسند احمد (4/367، 368، 370، 372) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1023
1021 1022 1023 1024 1025

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1022 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَن...
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے چ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ